Follow Us

آج کا دن کیسا رہے گا

تازہ ترین خبریں

کراچی میں نجی سکیورٹی گارڈ کے بہیمانہ تشدد سے خاتون بیہوش، وڈیو وائرل

 کراچی: شہر قائد کے علاقے گلستان  جوہر میں رہائشی پروجیکٹ کے نجی سکیورٹی گارڈ کے بہیمانہ تشدد  سے حاملہ خاتون بے ہوش ہو گئی۔ واقعے کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

تھانہ شارع فیصل کے علاقے راشد منہاس روڈ گلستان جوہر بلاک 17 میں رہائشی پروجیکٹ نعمان گرینڈ سٹی میں نجی سکیورٹی گارڈ نے حاملہ خاتون کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں خاتون زمین پر گر کر بے ہوش ہو گئی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وائرل وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نجی کمپنی کا سکیورٹی گارڈ پہلے ایک خاتون سے بات کر رہاہے، اسی دوران گارڈ مشتعل ہوگیا اور اس نے خاتون کو زور دار تھپڑ دے مارا، جس سے خاتون زمین پر گر گئی ۔ گارڈ نے زمین پر گری خاتون کے چہرے پر لات بھی ماری۔آپے سے باہر سکیورٹی گارڈ کو اس کے ساتھی نے روکنے کی کوشش بھی کی، تاہم اس نے بات نہ سنی۔

واقعے کے وقت اپارٹمنٹ کے مرکزی گیٹ پر مبینہ طور پر یونین کے ذمے دار بھی موجود تھے ۔ ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ اپارٹمنٹ میں لوگوں پر تشدد معمول بن چکا ہے اور اپارٹمنٹ کے رہائشی یونین کے عہدیداروں سے بہت زیادہ خوفزدہ ہو چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اپارٹمنٹ کی بالائی منزل کے متعدد فلیٹ ایسے بھی ہیں، جن پر مبینہ طور پر قبضہ کیا گیا ہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تشدد کے حوالے سے خاتون نے شاہراہ فیصل تھانے سے رجوع کیا تھا ۔ خاتون کا رہائشی عمارت کی یونین سے جھگڑا چل رہا تھا ۔ متاثرہ خاتون نے سکیورٹی گارڈ کے خلاف مقدمہ درج کرانے  سے انکار کر دیا ۔

دریں اثنا پولیس نے حاملہ خاتون کوبہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعے کا مقدمہ درج کرکے رہائشی پروجیکٹ کے سکیورٹی گارڈ کوگرفتارکرلیا۔ قبل ازیں پولیس حکام نے نوٹس لیتے ہوئے واقعے کا مقدمہ درج کرانے کا حکم دیا تھا، جس پر شاہراہ فیصل پولیس نے مقدمہ الزام نمبر2022/745 بجرم دفعہ 504،337اے ون اور354 شاہراہ فیصل تھانے میں متاثرہ خاتون ثنا کی مدعیت میں درج کیا۔

مقدمے کے متن کے مطابق  متاثرہ خاتون نے پولیس کو بیان دیا کہ وہ بن قاسم ٹاؤن عبداللہ گوٹھ کی رہائشی اور گھریلوملازمہ ہے۔ وہ گلستان جوہر بلاک 17 میں واقع رہائشی پروجیکٹ نعمان گرینڈ سٹی کے فلیٹ میں کام کرتی ہے۔ 5 اگست کو اس کا بیٹا سہیل کھانا لےکر آیا تو رہائشی پروجیکٹ کی یونین کے عہدیدار عبدالناصر،عادل خان ،محمود خلیل اور دیگر، جو موجود تھے، انہوں نے میرے بیٹے کواندرداخلے کی اجازت نہ دی، جس پر وہ فلیٹ سے معلومات کرنے کے لیے رہائشی پروجیکٹ کے مرکزی گیٹ پر پہنچی تو یونین عہدیدار عادل نے انہیں مغلظات بکنا شروع کردیں اور مارنے کے لیے بڑھا۔